جن کی مثل نہ جواب ہے
ان کا ذکر اجر و ثواب ہے
ضیا ان کی دیکه کر
شرماتا ان سے مہتاب ہے
پڑه جاۓ نظر ایمان کی
ہوگیا وہ اہل اصحاب ہے
جاؤں گا در نبی پر کب
آنکهوں میں یہ خواب ہے
...
آہ!! میرے اعمال مجھے برباد نہ کردیں کہیں اعمال میرے اے خدا ذرا بھی اچھے نہیں اعمال میرے فقط اپنی رحمت سے دوزخ سے بچالے خلد جاؤں اس قابل تو نہیں اعمال میرے اے گناہوں کو نیکیو...
تقدیر کے آگے کوئی تدبیر کار آمد نہیں جیسےپانی پہ کھینچی لکیر کار آمد نہیں جو حاکمِ وقت کےدربار پہ لگاتےہوں چکر ایسے گدی نشیں, ایسے پیر کار آمد نہیں جس کی ساری محنت ہ...
امیر المجاھدین علامہ خادم حسین رضوی صاحب کی بارگاہ ناز میں گلہائے عقیدت کی چند پتیاں #بابائے #انقلاب حرارتِ دلِ عاشقاں بابائے انقلاب ہےسالارِ مجاھداں بابائے انقلا...
#دور #اندیشی علامہ نثار احمد اجؔاگر صاحب نے غازی ملک ممتاز حسین قادری شھید علیہ الرحمہ کی شھادت کے چند دنوں بعد ہی ایک کلام لکھا تھا جس کا مطلع یہ ہے کہ رائیگاں نہ جائے گا خون ...
شانِ امیر المجاھدین علامہ خادم حسین رضوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کشتئیِ امت کے ناخُدا تیری کیا بات ہے ڈوبتی ناؤ، لی ہے بچا تیری کیا بات ہے لرزاں ہیں تیری ذات سے سب ...
بے سروسامان ہیں دھرنے والے سب مسلمان ہیں دھرنے والے یارب تیرے محبوب کی خاطر کچھ لہولہان ہیں دھرنے والے غیبی مدد کے دروازے کھول تیرے مہمان ہیں دھرنے والے لب پر تیرے محبوب ک...
کِلکِ رضا عکسِ ذوالفقار ہے قلم میرے رضا کا قدرت کاشاھکار ہے قلم میرے رضا کا ایمان کے لٹیروں کو کہیں کا نہیں چھوڑا کرتا ایسے وار ہے قلم میرے رضا کا از کلام فر...
حکومت کے دروازے پہ دستک کھولتے کیوں نہیں آسیہ ملعونہ کیس کی بندفائل کیا ابھی درکار ہیں اُس کے مجرمہ ہونےمیں دلائل کس کے حکم سے اس کی پھانسی میں ہے تاخیر یا تمھیں مغرب کی غل...
مدت سے میری پُر ارمان ہیں آنکھیں اے محسنِ عالم طالبِ احسان ہیں آنکھیں گر اِن میں سما جائے تیرا جلوہء زیباء پھرتو میری بخشش کاسامان ہیں آنکھیں صلی اللہ علیہ وا...
بنائیں گے کب ہمیں مہماں مدینے کے بلائیں گے کب ہمیں سلطاں مدینے کے جانیں کب ہم بهی مدینے جائیں گے دل میں ہیں بس ارماں مدینے کے جالیوں کے سامنے کب ہم پڑهے نعت پاک ہوں گے کب ہم پر احساں مدینے بلائیں گے کب طیبہ میں آقا ہمیں ہوں گے کب ہم مہماں مدینے کے اے مزمل میری چم تر میں ہیں محترم ہیں جو بهی سب مہرماں مدینے کے سید مزمل شاہ
ذکر جن کا صبح و شام ہے
یہ بندہ بهی ان کا غلام ہے
شیریں گفت زبان جن کی
وہ مصطفی کی ذات پاک کا نام ہے
ان کے در کی کیا ہی بات ہے
ہر بادشاہ جہاں غلام ہے
صبا گزر تیرا جب ہو طیبہ سے...